اگر بابری مسجد مسماری سازش ہے، تو کشمیر میں ہندوؤں کی نسل کشی بھی بڑی سازش ہے : پروین توگڑیا

نئی دہلی:بابری مسجد مسماری کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ممتاز لیڈروں بشمول لال کرشن اڈوانی کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے ایک روز بعد ہی وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے لیڈر پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ مرکز اور ریاستوں کی حکومتوں کو چاہئے کہ ایسا قانون پاس کرے جس کے ذریعہ ان تمام لیڈروں کے خلاف جو ہندؤں کے لئے لڑرہے ہیں سیاسی فائدے کے لیے اکسانے کے الزام میں درج تمام مقدمات کو خارج کیا جاسکے۔
وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدر پروین توگڑیا نے احمد آباد سے ایک بیان میں کہا کہ “اب وقت آگیا ہے کہ مرکز اور ریاستوں کی حکومتیں ایسے قوانین پاس کریں، جن کے ذریعہ سیاسی ترغیب سے درج کئے گئے مقدمات کو مستر د کیا جاسکے جو ہندؤں کے حقوق کے لئے جد و جہد کرنے والے لیڈروں کے خلاف دائر کئے گئے ہیں”۔ انہوںنے مزید کہا کہ اگر متنازعہ بابری مسجد کا ڈھانچہ منہدم کرنا سازش ہے، تو مرکز اور جموں و کشمیر کی پی ڈی پی -بی جے پی اتحادی حکومت کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرکے 90-1989 میں مسلمانوں کے ہاتھوں کشمیر کے ہندوؤں کی نسل کشی کو سب سے بڑی سازش قرار دینا چاہئے۔

Title: ethnic cleansing of kashmiri hindus is also a big conspiracy says parveentogaria | In Category: ہندوستان  ( india )