رضا اکیڈمی نے قاضیوں اور وکیلوں کو طلاق نامے پر ”تین طلاقیں“ نہ لکھنے کی تلقین کی

نئی دہلی:بہ یک نشست تین طلاق پر سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلہ محفوظ کرلئے جانے کے بعد رضااکیڈمی نے قاضیوں اور وکیلوں سے گزارش کی ہے کہ وہ طلاق نامہ لکھنے کی فرمائش پر ہرگز تین طلاقیں نہ لکھیں۔
اکیڈمی کی طرف سے جاری ریلیز کے مطابق یہاں وکلا اورعلما کی ایک خصوصی نشست میں ملت پر زور دیا گیا کہ غصہ میں صبرو ضبط کا دامن تھامے رہیں اور طلاق کے ناپسندیدہ عمل سے ممکنہ حد تک بچیں۔ ایک ساتھ تین طلاق دینے کے عمل کو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر محمول کرتے ہوئے شوہروں کو بیو یوں کی مبینہ بداخلاقی پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی۔
اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا سعید نوری جامعیہ اشرفیہ کے مفتی نظام الدین ، علامہ یاسین اختر مصباحی ، ڈاکٹر فضل اللہ چشتی نے اس موقع پر اظہار خیال کیااور اصلاح معاشرہ بل خصوص اولاد کی تربیت ، میاں بیوی کے حقوق سے واقفیت ، جھوٹ اور غیبت سے گریز پر زور دیا۔نشست میں جمیل رضوی، مولانا ظفرالدین برکاتی، مولانا منظر مصباحی ، سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ مشتبہ اور ضیاالمصطفی بھی شریک تھے۔

Title: qazis should not mention triple divoce on talaq nama says raza academy | In Category: ہندوستان  ( india )