سپریم کورٹ نے اجودھیا مقدمہ سماعت 5دسمبر تک ملتوی کر دی

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے اجودھیا اراضی تنازعہ کیس کی حتمی سماعت آج پانچ دسمبر تک کے لئے ملتوی کر دی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مختلف اپیلوں کی مشترکہ سماعت کے دوران جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر کی خصوصی بنچ نے کہا کہ پانچ دسمبر سے اس معاملے میں حتمی سماعت کی جائے گی۔ کورٹ نے تمام متعلقہ فریقین کو آگاہ کر دیا کہ اس دوران سماعت ملتوی کرنے کی کسی کی بھی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔ فریقین ضروری تیاریاں کر لیں۔ معاملے کی سماعت شروع ہوتے ہی سنی وقف بورڈ نے کہا کہ بہت سارے دستاویزات کے ترجمے کا کام اب تک نہیں ہو پایا ہے۔
یہ دستاویزات سنسکرت، فارسی، اردو، عربی اور دیگر زبانوں میں ہیں. ان کے ترجمے کے لئے کچھ وقت درکار ہوگا۔ عدالت نے سات برسوں تک دستاویزات کا ترجمہ نہیں ہونے پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ عدالت نے اس کام کے لئے تمام فریقین کے وکلا کو 12 ہفتے کی مہلت دی۔ سپریم کورٹ میں سات سال کے وقفے کے بعد اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔ اس معاملے میں کچھ وقت پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر سبرامنیم سوامی نے چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی بنچ سے جلد سماعت کی فریاد کی تھی۔ عدالت نے گزشتہ ماہ مسٹر سوامی کو بھی معاملے میں فریق بننے کی اجازت دیدی تھی۔
الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 2010 میں متنازع مقام کے 2.77 ایکڑ علاقے کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للہہ کے درمیان برابر۔برابر حصے میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا. چند ماہ قبل کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس معاملے کا عدالت سے باہر حل نکالنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے۔ مختلف فریقین کی جانب سے اس رخ پرکوشش بھی کی گئی، لیکن کوئی حل نہیں نکل سکا۔ لہذا عدالت ابھی خوبی اور خامی کی بنیاد پر ہی اس تنازعہ کا تصفیہ کرے گا۔

Title: ayodhya case hearing adjourned till 5th december | In Category: ہندوستان  ( india )