شہید بھگت سنگھ کو انتہا پسند بتایا گیا ہے، کسی حکومت نے انہیں شہید کا درجہ نہیں دیا:آر ٹی آئی میں انکشاف

نئی دہلی: وہ انقلابی نوجوان جولاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن اور جس کی قربانی ہر نسل کے لوگوں میں ایک جوش و جذبہ پیدا کرنے کامحرک ہے اور جس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے بر صغیر کو انگریزوں کے شکنجہ غلامی سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں تختہ دار کو اپنی آخری منزل بنا لیا تھا اسے آج تک وہ درجہ حاصل نہیں ہوسکا جس کا وہ صدفیصد مستحق تھا۔ بھگت سنگھ نام کو وہی ویر جوان جس نے زندگی کی صرف24بہاریں دیکھیں لیکن اتنی مختصر زندگی میں بھی وطن کی خاطر کارہائے نمایاں انجام دینے کے بعد جان کی بھی قربانی دے دی تاریخ کے پنوں میں تو خوب نظر آتا ہے لیکن اس شہید کی شہادت کے عوض اس کو کیا درجہ دیا گیا اس کی حقیقت کا علم ہونے کے بعد ہر ہندوستانی کے دل میں ا س شہید نوجوان کی قدر و قیمت اور اس کا قد کچھ اور بڑھ گیا۔بھگت سنگھ کو حکومت ہند نے کیا درجہ دیا ہے اس کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے دائر کی گئی ایک آر ٹی آئی سے انکشاف ہوا ہے کہ شہید بھگت سنگھ کو ایک انتہاپسند نوجوان سے تعبیرکیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ آر ٹی آئی میں معلوم کیے گئے سوال کے جواب میں شہید بھگت سنگھ کے دیگر دو انقلابی ساتھیوں سکھ دیو اور راج گورو کو بھی حکومت ہند نے ابھی تک شہید کا درجہ نہیں دیا ہے۔یہ سوال جموں کے ایک آر ٹی آئی کارکن روہت چودھری نے انڈین کونسل آف ہسٹوریکل ریسرچ (آئی سی ایچ آر) کی جانب سے نومبر میں جاری ایک کتاب کا ، جس میں وطن کی خاطر جان قربان کر دینے والے ان تینوں انقلاب پسندوں کو انتہا پسند قرار دیا گیا تھا، حوالہ دے کر کیا تھا۔اس آرٹی آئی سے علم ہوا کہ بر سر قتدار آنے والی کسی حکومت نے ان تینوں مجاہدین آزادی کو جن کی رگوں میں خون کی جگہ حب الوطنی دوڑتی تھی، شہید کا درجہ دینے کی کوئی خواہش یا پیش رفت نہیںکی۔جبکہ ہر خاص و عام میں بھگت سنگھ کا نام امر شہیدوں میں خاص طور سے لیا جاتا ہے۔

Title: rti shocker bhagat singh listed as radical youth militant | In Category: ہندوستان  ( india )